بانیءپاکستان کے افکار پر تحقیق ہماری سیاسی اور انتظامی رہنمائی کیلئے ضروری ہے ۔ تقریب سے مقررین کا خطاب

 

اسلام آباد۔قائداعظمؒ کو تحریر ،تقریر اور تصویر کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کرنا اپنی جگہ زندہ قوم ہونے کا ثبوت ہے لیکن اُن کو صحیح طور پر خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے کردار کو اُن کے نقشِ قدم کی تمثیل بنائیں تاکہ پاکستان کو اُ ن کے تصورات کے مطابق صحیح معنوں میں ایک ترقی یافتہ فلاحی اسلامی جمہوری ملک بنایا جا سکے ۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم نئی نسل کو قائد کے افکار،سیاسی اصولوں اور نظریات سے وابستہ رکھیںاور اُن کی زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر تحقیق کے عمل کو تیز کریں تاکہ ہم اپنی سیاسی اور انتظامی زندگی میں بہتری لا سکیں۔ اِن خیالات کا اظہار نظریہ پاکستان کونسل کے تحت ایوانِ قائد میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ ولادت کی خصوصی تقریب میں کونسل کی مجلس عاملہ کے سینئر وائس چیئرمین میاں محمد جاوید نے اپنے صدارتی کلمات کے دوران کیا۔ تقریب میں اُن کے علاوہ سینیٹر رزینہ عالم خان ، ڈاکٹر نعیم غنی ، ایڈووکیٹ ایم بلال، ڈاکٹر انعام الحق ، معروف مصورات نگار نذراور ناہیدہ رضا، معلمہ شازیہ اکبراور معروف دانشور انجم خلیق نے خطاب کیا۔ اس موقع پر سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا کہ قائداعظم کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے ایک مثالیے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے پیروکار تھے ۔ ڈاکٹر نعیم غنی نے کہ تصور پاکستان علامہ اقبال اور تشکیل پاکستان قائد اعظم کا عطیہ تھا جبکہ ہمارے ذمہ تعمیر پاکستان کا کام سونپا گیا ہے لیکن افسوس تین نسلیں گزر جانے کے بعد بھی ہم اس فرض کی ادائیگی میں مجرمانہ کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں ، ابھی بھی وقت ہے کہ ہم فکری انتشار ختم کرکے ایک متحد قوم کی طرح پاکستان کی خدمت میں مستعد ہو جائیں۔ ڈاکٹر انعام الحق نے کہا کہ قائداعظم نے قرآن پاک کو آئین پاکستان کی بنیاد قراردیا تھا اور اس کی بقا اور سالمیت کا انحصار بھی اسی بات پر ہے کہ ہم پاکستان کو قرآنی تقاضوں کے مطابق ایک صحیح اسلامی مملکت بنائیں ۔ ایڈووکیٹ ایم بلال نے کہا کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری ہر سانس قائداعظم کے احسانات کی مقروض ہے جنہوںنے ہمیں آزادی اور استحقاق سے رہنے کیلئے پاکستان کی شکل میں ایک گھر عطا کیا۔ انجم خلیق نے تقریب کی نظامت کرتے ہوئے قائد کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ نگار نذر نے کہا ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ ہم قائداعظم جیسے عظیم رہنما کے بنائے ہوئے ملک کے شہری ہیںجنہیں نیلسن منڈیلا سمیت دنیا کے کئی رہنما اپنا ہیرو قراردیتے ہیں۔ ناہید رضا نے یہ بات زور دے کر کہی ہمیں نئی نسل کو قائداعظم کی شخصیت سے متعارف کرواتے رہنا چاہیے تاکہ اُن میں قائد کے اصولوں کی پیروی کا جذبہ بیدار رہے ۔ شازیہ اکبر کا کہنا تھا کہ قومی مشاہیر کے دن مناتے ہوئے ہمیں سچے دل سے عہد کرنا چاہیے کہ ہم اُن کے اعمال وافکار کی پیروی کرتے ہوئے اُن کے دیکھے ہوئے خوابوں کو عملی تعبیر دےں گے۔ تقریب میں ملک کے ممتاز مصور جوڑے منصور راہی اور بیگم حاجرہ منصور راہی سمیت مصوروں ، دانشوروں اور طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔ اس موقع پر پشاور کے سانحہ میں شاہد ہونے والے معصوم طلباءاور اساتذہ ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔ اسلام آباد۔قائداعظمؒ کو تحریر ،تقریر اور تصویر کے ذریعے خراجِ عقیدت پیش کرنا اپنی جگہ زندہ قوم ہونے کا ثبوت ہے لیکن اُن کو صحیح طور پر خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے کردار کو اُن کے نقشِ قدم کی تمثیل بنائیں تاکہ پاکستان کو اُ ن کے تصورات کے مطابق صحیح معنوں میں ایک ترقی یافتہ فلاحی اسلامی جمہوری ملک بنایا جا سکے ۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم نئی نسل کو قائد کے افکار،سیاسی اصولوں اور نظریات سے وابستہ رکھیںاور اُن کی زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر تحقیق کے عمل کو تیز کریں تاکہ ہم اپنی سیاسی اور انتظامی زندگی میں بہتری لا سکیں۔ اِن خیالات کا اظہار نظریہ پاکستان کونسل کے تحت ایوانِ قائد میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ ولادت کی خصوصی تقریب میں کونسل کی مجلس عاملہ کے سینئر وائس چیئرمین میاں محمد جاوید نے اپنے صدارتی کلمات کے دوران کیا۔ تقریب میں اُن کے علاوہ سینیٹر رزینہ عالم خان ، ڈاکٹر نعیم غنی ، ایڈووکیٹ ایم بلال، ڈاکٹر انعام الحق ، معروف مصورات نگار نذراور ناہیدہ رضا، معلمہ شازیہ اکبراور معروف دانشور انجم خلیق نے خطاب کیا۔ اس موقع پر سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا کہ قائداعظم کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے ایک مثالیے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن سب سے بڑھ کر یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سچے پیروکار تھے ۔ ڈاکٹر نعیم غنی نے کہ تصور پاکستان علامہ اقبال اور تشکیل پاکستان قائد اعظم کا عطیہ تھا جبکہ ہمارے ذمہ تعمیر پاکستان کا کام سونپا گیا ہے لیکن افسوس تین نسلیں گزر جانے کے بعد بھی ہم اس فرض کی ادائیگی میں مجرمانہ کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیں ، ابھی بھی وقت ہے کہ ہم فکری انتشار ختم کرکے ایک متحد قوم کی طرح پاکستان کی خدمت میں مستعد ہو جائیں۔ ڈاکٹر انعام الحق نے کہا کہ قائداعظم نے قرآن پاک کو آئین پاکستان کی بنیاد قراردیا تھا اور اس کی بقا اور سالمیت کا انحصار بھی اسی بات پر ہے کہ ہم پاکستان کو قرآنی تقاضوں کے مطابق ایک صحیح اسلامی مملکت بنائیں ۔ ایڈووکیٹ ایم بلال نے کہا کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری ہر سانس قائداعظم کے احسانات کی مقروض ہے جنہوںنے ہمیں آزادی اور استحقاق سے رہنے کیلئے پاکستان کی شکل میں ایک گھر عطا کیا۔ انجم خلیق نے تقریب کی نظامت کرتے ہوئے قائد کو منظوم خراجِ عقیدت پیش کیا۔ نگار نذر نے کہا ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ ہم قائداعظم جیسے عظیم رہنما کے بنائے ہوئے ملک کے شہری ہیںجنہیں نیلسن منڈیلا سمیت دنیا کے کئی رہنما اپنا ہیرو قراردیتے ہیں۔ ناہید رضا نے یہ بات زور دے کر کہی ہمیں نئی نسل کو قائداعظم کی شخصیت سے متعارف کرواتے رہنا چاہیے تاکہ اُن میں قائد کے اصولوں کی پیروی کا جذبہ بیدار رہے ۔ شازیہ اکبر کا کہنا تھا کہ قومی مشاہیر کے دن مناتے ہوئے ہمیں سچے دل سے عہد کرنا چاہیے کہ ہم اُن کے اعمال وافکار کی پیروی کرتے ہوئے اُن کے دیکھے ہوئے خوابوں کو عملی تعبیر دےں گے۔ تقریب میں ملک کے ممتاز مصور جوڑے منصور راہی اور بیگم حاجرہ منصور راہی سمیت مصوروں ، دانشوروں اور طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔ اس موقع پر پشاور کے سانحہ میں شاہد ہونے والے معصوم طلباءاور اساتذہ ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

 انجم خلیق

ڈائریکٹر میڈیا

0322-5370347