پوری قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہےسانحہ پشاور تعزیتی ریفرنس میں مقررین کا اظہار خیال

 

اسلام آباد۔نظریہ پاکستان کونسل اور البصیرہ ٹرسٹ کے کے زیرِ اہتمام ایوانِ قائد اسلام آباد میں آرمی پبلک سکول پشاور میں ہونے والے درد ناک سانحہ کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس منعقدہوا۔ معروف محقق اور دانشور ثاقب اکبر کی صدارت میں منعقدہ اس ریفرنس میں مقررین نے آرمی پبلک سکول کے بچوں کے بہیمانہ قتل پر شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے ان جرائم میں ملوث دہشتگردوں کو فی الفور پھانسی دینے کے علاوہ دہشتگردوں کے سہولت کا ر اداروں کو بلا تخصیص مجرم قراردیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ جب تک ان جڑوں کو نہ اکھاڑا گیا ملک سے فرقہ واریت کی بنیاد پر ہونے والی دہشتگردی اور ظلم وستم کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ہر قسم کی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان میں امن ومان کے قیام کیلئے فوری اور سنجیدہ کوششیں کرے۔ثاقب اکبر نے کہا کہ ملک سے فرقہ واریت کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے ہمیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی جیسے ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مسلکی تقسیم کی بنیاد پر قائم ہونے والے اداروں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔اسلام محبت کا دین ہے جس میں قتل وغارت اور فتنہ اور فساد کی کوئی گنجائش نہیں۔ اجلاس میں شہید بچوں کے والدین سے دلی تعزیت کے ساتھ ساتھ مقررین نے پاکستان کی بہادر افواج سے مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ضربِ عضب کی پرُزور حمایت کرتے ہیں ، فوجی بھائیوں کی قربانیوں کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں اُن کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ۔ مقررین نے محب وطن اسلام پسند اور انسانیت نواز علماءاور دانشوروں پر بھی زور دیا کہ وہ ایسے نام نہاد علماءکی بھرپور مذمت کریں جو پاکستان میں نفرت، دہشت گردی اور تعصب کوہوا دے کر مجرمانہ ذہنیتوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ مقررین میں مفتی گلزار احمد نعیمی ، پیر سید احمد نقشبندی ، پیر ناصر جمیل ہاشمی، ریٹائرڈ ایئر مارشل قیصر حسین، پروفیسر ناصر علی ناصر ،کرنل نادر حسین ، غدیر حسین شاہ ، شہباز چوہان ، خواجہ شجاع عباس، ہما مرتضیٰ ، انجم خلیق ، ڈاکٹر محمد طفیل ، میاں تنویر قادری اور اعجاز احمد نے بھی خطاب کیا۔ ریفرنس کے اختتام پر شہداءپشاور کی بلندی¿ درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔اسلام آباد۔نظریہ پاکستان کونسل اور البصیرہ ٹرسٹ کے کے زیرِ اہتمام ایوانِ قائد اسلام آباد میں آرمی پبلک سکول پشاور میں ہونے والے درد ناک سانحہ کے حوالے سے تعزیتی ریفرنس منعقدہوا۔ معروف محقق اور دانشور ثاقب اکبر کی صدارت میں منعقدہ اس ریفرنس میں مقررین نے آرمی پبلک سکول کے بچوں کے بہیمانہ قتل پر شدید رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے ان جرائم میں ملوث دہشتگردوں کو فی الفور پھانسی دینے کے علاوہ دہشتگردوں کے سہولت کا ر اداروں کو بلا تخصیص مجرم قراردیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ جب تک ان جڑوں کو نہ اکھاڑا گیا ملک سے فرقہ واریت کی بنیاد پر ہونے والی دہشتگردی اور ظلم وستم کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ہر قسم کی مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان میں امن ومان کے قیام کیلئے فوری اور سنجیدہ کوششیں کرے۔ثاقب اکبر نے کہا کہ ملک سے فرقہ واریت کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے ہمیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی جیسے ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مسلکی تقسیم کی بنیاد پر قائم ہونے والے اداروں کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔اسلام محبت کا دین ہے جس میں قتل وغارت اور فتنہ اور فساد کی کوئی گنجائش نہیں۔ اجلاس میں شہید بچوں کے والدین سے دلی تعزیت کے ساتھ ساتھ مقررین نے پاکستان کی بہادر افواج سے مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام ضربِ عضب کی پرُزور حمایت کرتے ہیں ، فوجی بھائیوں کی قربانیوں کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں اُن کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ۔ مقررین نے محب وطن اسلام پسند اور انسانیت نواز علماءاور دانشوروں پر بھی زور دیا کہ وہ ایسے نام نہاد علماءکی بھرپور مذمت کریں جو پاکستان میں نفرت، دہشت گردی اور تعصب کوہوا دے کر مجرمانہ ذہنیتوں کی پشت پناہی کررہے ہیں۔ مقررین میں مفتی گلزار احمد نعیمی ، پیر سید احمد نقشبندی ، پیر ناصر جمیل ہاشمی، ریٹائرڈ ایئر مارشل قیصر حسین، پروفیسر ناصر علی ناصر ،کرنل نادر حسین ، غدیر حسین شاہ ، شہباز چوہان ، خواجہ شجاع عباس، ہما مرتضیٰ ، انجم خلیق ، ڈاکٹر محمد طفیل ، میاں تنویر قادری اور اعجاز احمد نے بھی خطاب کیا۔ ریفرنس کے اختتام پر شہداءپشاور کی بلندی درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔


انجم خلیق

ڈائریکٹر میڈیا

0322-5370347