سمر کیمپ منعقدہ 3تا15جولائی2017

نظریہ پاکستان کونسل کے تحت دوسرا سالانہ سمر کیمپ ایوانِ قائد فاطمہ جناح پارک میں 03تا 15جولائی 2017ء منعقد ہوا۔ اس بارہ روزہ کیمپ میں راولپنڈی/اسلام آباد کے چھ سکولوں کے جماعت نہم /دہم کے 50طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ کیمپ کا مقصد گرما کی تعطیلات کے دوران طلبہ و طالبات کو ایک مثبت غیر رسمی ماحول میں ایسی تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رکھناتھا جو اُن کے ذہنوں میں وطن سے محبت ، شہری ذمہ داریوں کے ادراک، اخلاقی اقدار اور سماجی تقاضوں سے ہم آہنگی ، معاشرتی روابط کی اہمیت، مشکل حالات میں منضبط طرزِ عمل، سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کی یلغار میں اپنے رویوں کی آبیاری اور صحت عامہ کی صورتِ حال کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک تعلق ، ایک ارتباط ، ایک شوق اور ایک لگن پیدا کر سکیں۔

آج اس بارہ روزہ کیمپ کی اس اختتامی تقریب میں گذشتہ بارہ دنوں کے تجربات اور شرکاء کیمپ کے تاثرات و احساسات کی روشنی میں ہم بہت طمانیت اور افتخار سے رب تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اعتماد سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کے فضل سے یہ کیمپ ہر پہلو سے کامیاب رہا۔

کامیابی کے اس بلند بانگ دعوے کے پیچھے جن عوامل کی رہنمائی ، شفقت مشاورت اور معاونت شامل ہیں اُن میں سرفہرست کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر نعیم غنی صاحب اور سینئر وائس چیئرمین میاں محمد جاویدصاحب کا نام آتا ہے جنہوں نے پہلے دن سے اب تک کونسل سیکرٹریٹ کی مسلسل رہنمائی فرمائی۔ خاص طور پر چیئرمین صاحب جو اس دوران چند ایک سیشنز میں شریک ہو کر منتظمین اور شرکاء کو ضروری ہدایات سے نوازتے رہے۔ یہاں کونسل کی مجلسِ عاملہ کی سینئر رکن محترمہ قمر آفتاب صاحبہ کا ذکر بھی ضروری ہے جو تقریباً ہر روز کیمپ کی سرگرمیوں میں شریک رہیں۔

 

لیکچرز دینے والی شخصیات

اسی طرح کونسل کی مجلسِ عاملہ کے معزز اراکین میں سے سردار وزیراحمد جوگیزئی، سینیٹر رزینہ عالم خان، جنرل(ر) محمد طاہر، جناب فرید اللہ خان، پروفیسر ڈاکٹر ایوب صابر، جناب کنور محمد دلشاد، ڈاکٹر انعام الحق اور مسز نرگس ناصر نے رضاکارانہ طور پر بے حد اہم موضوعات پر بہت بسیط اور فکر افروز لیکچرز دے کر کونسل کے مقاصد اور سمر کیمپ کے اعتبار دونوں کی آبیاری فرمائی۔ بلا شبہ ان میں سے ہر معزز رکن متعلقہ موضوع پر معلومات اور مہارت کے اعتبار سے اتھارٹی ہے۔

 

دیگر ماہرین و دانشوران

مجلسِ عاملہ کے اراکین کے علاوہ انتظامیہ نے ہر موضوع کی مناسبت سے صاحبانِ فکرو نظر دانشوران اور ماہرین کو لیکچرز کے لئے مدعو کیا، ان شخصیات میں پاکستان ٹیلی ویژن کی کنٹرولر نیوز، معروف شاعرہ اور کالم نگار محترمہ فرخندہ شمیم، معروف ڈرامہ نگار اور افسانہ نگار محترمہ فرحین چوہدری، سائنس اور میتھس کے نامور استاد پروفیسر حفیظ الرحمن، رفاہ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر پالیسی ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر راشد آفتاب، معروف معالج ڈاکٹر آصف برق، ممتاز مصورہ محترمہ سیمی حق، ایمی سن سروائیول اسکول کے انسٹرکٹر ذیشان شہزاد، کامسٹس یونیورسٹی میں سماجیات کی معلمہ پروفیسر عقیلہ آصف، ماہرِ اسلامی تعلیمات ڈاکٹر محمد طفیل،مطالعۂ پاکستان کے معلم ڈاکٹر عبدالرئوف بھٹہ، اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات سے منسلک ڈاکٹر افتخار کھوکھر، اردو ادب کی پروفیسر شازیہ اکبرخاتونِ خانہ مریم طارق اور ریڈکریسنٹ کے رکن ماہرِ نفسیات عتیق احمد شامل ہیں۔

 

لیکچرز کے موضوعات

شرکاء کے تعلیمی مدارج اور ذہنی عمر کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کونسل کے ڈائریکٹر پروگرامز سیکشن نے اپنے رفقاء کی مشاورت سے لیکچرز کیلئے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا تھا جو طالبعلموں کی روزمرہ علمی و سماجی مصروفیات اور قومی و شہری ذمہ داریوں سے ہم آہنگ ہوں۔ چنانچہ اس حوالے سے منتخب کردہ موضوعات یہ رہے۔

 

1۔        نظریہ__عمل کا متقاضی ہے

2۔        سوشل میڈیا اور نئی نسل کی ذمہ داریاں

3۔        الیکٹرانک میڈیا کی مؤثریت

4۔        نظریہ ہماری پہچان

5۔        مثبت سوچ سے رویوں کی تبدیلی

6۔        باہمی معاشرتی روابط کی اہمیت اور تقاضے

7۔        نظریۂ حیات

8۔        نظریہ پاکستان اور نوجوان نسل

9۔        اخلاقیات اور سماجی اقدار

10۔     قدرتی آفات سے بچائو اور احتیاطی تدابیر

11۔     ذہنی اور نفسیاتی نشوونما

12۔     سائنسی غورو فکر وقت کی اہم ضرورت

13۔     پیشہ ورانہ پیش رفت میں انتخاب کی اہمیت

14۔     صحتِ عامہ اور ہم

15۔     قومی یکجہتی میں بلوچستان کا کردار

16۔     قومی یکجہتی اور ہم

17۔     میں اساتذہ سے مخاطب ہوں

18۔     قومی پرچم کا احترام

19۔     اقبال اور پاکستان

20۔      مشاہیرِپاکستان

21۔     اتحاد بین المسلمین

22۔      نوجوان نسل کی اخلاقی ذمہ داریاں

 

شرکائے کیمپ کیلئے دیگر سرگرمیاں

کیمپ کے شرکاء کو یکسانیت سے بچانے اور ماحول کو ٹھوس تعلیمی فضا سے مختلف رکھنے کیلئے طلبہ وطالبات کے مابین مضمون نگاری، تقاریر، شعر خوانی، مصوری اور ذہنی آزمائش کے انعامی مقابلے بھی منعقد کئے گئے جن میں طلبہ وطالبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔بچوں کے لئے بریک کے دوران ٹیبل ٹینس کا انتظام بھی تھا

 

سمر کیمپ کے شرکاء کا طرزِ عمل

کیمپ کے منتظمین کیلئے یہ بات سب سے زیادہ خوشگوار احساس کی حامل رہی کہ بارہ دنوںکے دوران پہلے دن سے آخری دن تک شریکِ کیمپ طلبہ وطالبات نے بے پناہ شائستگی، ذمہ داری، یگانگت اور بلوغتِ فکر و عمل کا مظاہرہ کر کے یہ ثابت کیا کہ ہماری نوجوان نسل انتہائی شائستہ ، ذہین اور صاحبِ کردارہے۔ طلبہ و طالبات نے تمام لیکچرز اور دیگر سرگرمیوں کے دوران مکمل نظم وضبط کا مظاہرہ کیا اور تمام لیکچرز کے بعد سوال وجواب کی نشستوں میں انتہائی پائیدار اور علم افروز سوالات کر کے اپنی دلچسپی، توجہ اور پختگی ِفہم کے قابلِ تعریف شواہد پیش کئے۔

 

مہمانداری

کونسل انتظامیہ کی جانب سے ہر روز بغیر کسی تعطل کے تمام شریک طلبہ و طالبات کو لنچ باکس اور مہمان لیکچرز اور نگران اساتذہ کی تواضع چائے سے کی گئی۔

 

تدریسی سیشنز کی میزبانی

سمر کیمپ کے تمام تدریسی سیشنز کی میزبانی اس رپورٹ کے پیش کار یعنی انجم خلیق ڈائریکٹر میڈیا کے سپرد تھی۔ اس خدمت گذاری میں مہمان مقررین اور موضوعات کا اجمالی تعارف، لیکچرز کے چیدہ چیدہ نکات ، سوال وجواب کی مختصر رپورٹنگ اور آنے والے دن کے پروگرا م کی بریفنگ شامل تھی۔

 

رابطہ کاری اور تشکیلی امور

سمر کیمپ میں شریک طلبہ وطالبات کی آمدورفت کے انتظامات کی دیکھ بھال ، مہمان مقررین سے رابطہ اور مہمانداری اور روز مرہ کے طے شدہ پروگراموں کی ترتیب و تنظیم اور تشکیل کی تگ و دو ڈائریکٹر پروگرامز جناب عشرت معصوم نے بطریقِ احسن نبھائی۔

 

انتظامی اور مالی امور

سمر کیمپ میں ہال کے اندر اور باہر کے انتظامی امور سے لیکر مالی وسائل کی بروقت فراہمی میں کونسل کے ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس جناب ظہیر احمد چوہدری کا رویہ بے حد ذمہ دارانہ بلکہ دوستانہ حد تک شفقت آمیز رہا جس سے کیمپ کی تمام طے شدہ اور ہنگامی ضرورتیں بغیر کسی رکاوٹ کے پوری ہوتی رہیں۔

 

معاونت

کونسل کے متذکرہ بالا ایگزیکٹو افسران اپنی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں اس وجہ سے کامیاب رہے کہ انہیں مجلسِ عاملہ کے اکابرین کی طرف سے مکمل رہنمائی میسر تھی لیکن تمام تر انتظامات کو بطریقِ احسن پورا کرنے میں ایگزیکٹو افسران کو کونسل کے سیکرٹریٹ سٹاف کا بھر پور ، مکمل ، بے داغ اور بے حد ذمہ دارانہ تعاون میسر آیا جس کے بغیر کامیابی کا دعویٰ کرنے کو نوبت ہی نہ آ سکتی تھی۔

اس حوالے سے روزمرہ کی حاضری سے لیکر تمام متعلقہ کاغذات کی شرکاء کو فراہمی اور ان کی یقینی واپسی اکائونٹس آفیسر شاہد باجوہ اور میڈیا افیسر صبا اکبر نے نبھائی جبکہ ہر سیشن کی فوٹو گرافی کیلئے محترم سلطان بشیر نے ہمیں مکمل وقت دیا ، اسی طرح تمام ضروری نوٹس کی بروقت ٹائپنگ میں انتظامیہ کو حافظ اکرام محمود صاحب کا تعاون حاصل رہا جبکہ سمر کیمپ کے دوران ہال کی لائٹس ، مائیک سسٹم اور آڈیو و یڈیوو پریزیشنز کیلئے لیپ ٹاپ اور ملٹی میڈیا کی فراہمی اور دیکھ بھال کونسل کے الیکٹریشن ظفر اقبال کی مہارت کی رہین منت رہی جنہیں ان تمام مراحل میں شاہ زیب کی معاونت حاصل رہی۔اسی طرح نائب قاصد جماد، ڈی آر مہراب علی اور ڈرائیور سدھیر نے بھی کیمپ ڈیوٹیز ذمہ داری سے نبھائیں۔

 

معاون اسکول

کیمپ کی سرگرمیوںکو ممکن بنانے میں ہمیں نجم ماڈل سکول، دارارقم ماڈل سکول صادق آباد، بابر پبلک سکول، فضائیہ سکول، کریٹومائنڈ سکول، سرسید انوویٹو سکول راولپنڈی، پنجاب کالج اور آئی ایم سی جی G-8/4 کا تعاون حاصل رہا۔ کونسل ان سکولوں کے اساتذہ اور انتظامیہ کی بطورِ خاص شکر گزار ہے۔

 

میں نے سمر کیمپ کو کیسا پایا

کیمپ کی افادیت ، کامیابی اور ممکنہ خامیوں کو جانچنے اور آئندہ اس سرگرمی کو اور بہتر بنانے کیلئے کونسل نے تمام شرکاء کو لیکچرز اور انتظامات کے حوالے سے ایک سوالنامہ دیا ہے۔ جس پر درج آراء ہی دراصل کیمپ کے حوالے سے ہماری کاوشوں کی آئنہ دار ہوں گی۔اس سوالنامے کی رپورٹ جلد تیار کر لی جائے گی۔

 

اور اس طرح صاحبانِ محترم

نظریہ پاکستان کونسل نے اپنے دوسرے سالانہ سمر کیمپ کا یہ بارہ روزہ پروگرام اللہ کے فضل و کرم، مختلف اسکولوں کے اساتذہ کے تعاون اور طلبہ و طالبات کی بھر پور شرکت، کونسل کے اکابرین کے سرپرستانہ شفقت ، ماہرینِ فن کی طرف سے رضاکارانہ معاونت اور کونسل انتظامیہ کی نیازمندانہ لیکن بے حد مخلصانہ کاوشوں سے آج اُس مرحلے تک آیا ہے کہ آج ہم اختتامی پروگرام کے معزز مہمانوں کے سامنے بہت اعتماد کے ساتھ کیمپ کے بخیریت مکمل ہونے کی یہ رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔

 

بہت بہت شکریہ