• 1
  • 2
  • 3
  • Aiwan e Quaid-1
  • Auditorium
  • Committee-room-02
  • Committee-room-03
  • Exhibition-Hall-02
  • Quaids-gallery-01
  • meeting-room-02

بیگم زاہدملک صاحبہ نے ایوانِ قائد میں موجود لائبریری میں یومِ آزادی موقع پر نظریہ پاکستان اور تحریکِ پاکستان پر لکھی گئی کتابوں کے کارنر کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوںنے کہا کہ کتابیں ہماری تاریخ کا حصہ ہیںجن کا مطالعہ نئی نسل کیلئے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔

14اگست کا دن ایوانِ قائد میں ہر سال بہت تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے۔ دن کا آغاز اسلام آباد پولیس بینڈ کی طرف سے قومی ترانے کی دھنوں پر قومی پرچم لہرانے سے ہوتا ہے اور وطنِ عزیز کی سالمیت کی دعا کی جاتی ہے۔ پھر متذکرہ بینڈ کوئی ایک گھنٹہ تک معروف قومی ترانوں اور ملی نغموں کی ولولہ انگیز دھنیں پیش کرتا ہے۔ اس کے بعد ایوانِ قائد آڈیٹوریم میں جڑواں شہروں کے تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات نغموں، خاکوں، ٹیبلو اور تقاریر میں وطن سے محبت اور سرزمینِ وطن سے وفاداری کے عہد کی تجدیدکرتے ہیں۔ اس دوران کچھا کچھ بھرے ہوئے آڈیٹوریم میں سینکڑوں بچے قومی پرچم کی جنڈیاں لہرا کر جشنِ آزادی کی رونق اور رنگارنگی میں اضافہ کرتے ہیں۔

یہی سب اہتمام اس مرتبہ بھی تھا لیکن ایک تبدیلی کے ساتھ۔ گذشتہ برس تک یومِ آزادی کی اس تقریب میں کونسل کے بانی چیئرمین جناب زاہدملک حیات تھے۔ انہوںنے حسبِ روایت اپنے دستِ مبارک سے پرچم کشائی کی رسم ادا کی اور پھر اسی آڈیٹوریم میں (جسے اب کونسل کیلئے کی گئی اُن کی ناقابلِ فراموش خدمات کے اعتراف میں "زاہدملک آڈیٹوریم" کے نام سے موسوم کر دیا گیا ہے) منعقدہ پروگرام میں شرکت کی تھی اور شدید علالت کے باجود ایک بہت زندہ و پائندہ تقریر کی تھی جو اتفاق سے اُن کی زندگی کی آخری تقریر ثابت ہوئی۔

آج کی تقریب میں وہ ہمارے ساتھ موجود نہیں تھے لیکن کونسل کے منتظمین اور تقریب کے حاضرین سب محسوس کر رہے تھے کہ عالمِ بالا سے اُن کی روح اس تقریب کوبنفسِ نفیس ملاحظہ کر رہی ہے اور یقینا اس احساسِ طمانیت کے ساتھ کہ اُن کا لگایا ہوا پودا اور اُن کی جاری کردہ روائتیں دونوں پَھل پُھول رہے ہیں۔

زاہدملک صاحب کی کمی تو شائد کبھی پوری نہ ہو لیکن تقریب میں اُن کی شخصی عدم موجودگی کا احساس دور کرنے کیلئے کونسل انتظامیہ نے اُن کی اہلیہ محترمہ بیگم ریحانہ زاہدملک کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا تھا۔

بیگم صاحبہ نے پرچم کشائی کا فریضہ انجام دیا اور شروع سے آخر تک پروگرام میں شریک ہو کر کونسل کی عزت افزائی ہوئی۔

متذکرہ تقریب میں حسبِ معمول طلبہ و طالبات نے خوبصورت ملی نغمے پیش کئے اور اپنی معصومانہ تقاریر میں وطن سے بے پایاں محبت کا اظہار کر کے اس تاثر، اعتماد اور یقین کو مزید پختہ کیا کہ پاکستان کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

 آج کی تقریب کے دوران زاہدملک مرحوم کی گذشتہ برس یومِ آزادی کی تقریر کے ویڈیو کلب سُنا کر اُن کی یادوں کو تازہ کرنے کے ساتھ اُن کے افکارِ عالیہ پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا۔ محترمہ بیگم زاہدملک نے تقریب کے آخر میں مختصر خطاب کیا اور پروگرام میں حصہ لینے والے طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کیے۔

جشنِ آزادی بینر پر جملے تحریر کرنے کی ابتدائی کارروائی کے بعد محترم چیئرمین این پی سی نے قائد پکچرز گیلری میں منعقدہ تصویری نمائش کا افتتاح کیا۔ متذکرہ نمائش میں بانی ٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کی تحریکِ پاکستان کے دوران سیاسی سرگرمیوں کی یادگار اور نادر تصاویر رکھی گئی ہیں جن کا مقصد عوام الناس خصوصاً نئی نسل کو تشکیلِ پاکستان کے مراحل میں قائد کی مصروفیات سے آگاہ رکھنا ہے۔ یہ نمائش بھی تقریباتِ آزادی کے افتتاح تک جاری رہی جس کو ہر روز مختلف اسکولوں اور کالجوں کے وفود اور فاطمہ جناح پارک میں آنے والوں کی کثیر تعداد ے ملاحظہ کیا۔

نمائش کا دوسرا حصہ سرزمین وطن کے مختلف مناظر، عوام کے طرزِ بود و باش اور دیہی اور شہری زندگی کے شب و روز کی نقش گری پر مشتمل تھا جس میں ملک کے معروف مصوروں کے شاہپارے رکھے گئے تھے۔ ان تصاویر کی فراہمی میں کونسل کو منصور راہی آرٹ سٹوڈیوز کی کوارڈینیٹر مسز ۔۔۔۔۔ ایس خان کی خصوصی معاونت حاصل رہی جبکہ مہمانوں کی تواضع کیلئے ٹھنڈے مشروبات مری بروری کی طرف سے فراہم کئے گئے تھے۔

جشنِ آزادی کو شایانِ شان اور روایتی انداز میں مناتے ہوئے کونسل کے صدر دفتر کی عمارت 'ایوانِ قائد'کو بہت نفاست، خوبصورتی اور خوش ذوقی کے ساتھ رنگا رنگ برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ روشنیوں کا یہ نظر نواز سلسلہ 12اگست کی شام سے 14اگست رات گئے تک جاری رہا۔

 تقریبات کا آغاز 7اگست کو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر نعیم غنی نے ایوانِ قائد میں جہازی سائز جشنِ آزادی بینر پر حُب الوطنی سے معمور ایک متاثر کُن جملہ لکھ کر کیا جس کے بعد مجلسِ عاملہ کے اراکین نے وطنِ عزیز کی سالمیت، سربلندی اور استحکام و ترقی کی دعائوں پر مشتمل جملے تحریر کر ے اپنے جذباتِ ملی کا اظہار کیا۔

جشنِ آزادی بینر پر سرزمینِ پاک سے محبت کے اظہار میں عوام و خواص کی جانب سے جملے، نعرے اور اشعار لکھنے کا سلسلہ تقریباتِ آزادی کے اختتام تک شدومد سے جاری رہا۔ اسی شمارے میں وطنِ پاک سے عقیدت و اخلاص پر مشتمل ان مختصر تحریروں کو تحریر کنندگان کے ناموں کے ساتھ ایک علیحدہ مضمون میں قارئینِ نظریہ کی دلچسپی کیلئے شامل کر دیا گیا ہے۔