“ہندوؤں و مسلمانوں میں مذہبی نہیں سماجی اختلاف ہے” ( سینیٹر عبدالقیوم )

اسلام آباد: میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ مجھے نظریہ پاکستان کونسل میں فکر اقبال کی عملی تفسیر کے موضوع پر بات کرنے کیلئے مدعو کیا گیا۔ یہاں اساتذہ اور ماہرین تعلیم کی موجودگی میں نہایت فکر انگیز گفتگو ہوئی۔ افواج پاکستان ہر دور میں وطن عزیز کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی محافظ رہی ہے مجھے اس پر فخر ہے۔ ان خیالات کا اظہار لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبدالقیوم نے ایوان قائد میں نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے زیر اہتمام فجر اقبال کی عملی تفسیر کے موضوع پر منعقدہ مذاکرہ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی نہیں سماجی اختلاف ہے۔ سر سید احمد خان نے بہت مشکل حالات میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم کرکے نوجوانوں کی تربیت کا فریضہ انجام دیتے ہوئے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا رہن سہن بالکل مختلف ہے۔ صدیوں ان کے ساتھ رہنے کے باوجود ہم ایک نہیں ہوسکے چنانچہ مسلمانوں کو تعلیمی استعداد بڑھا کر آگے بڑھناچاہئیے۔
حالات کا یہ وہ جبر تھا جس میں نظریہ پاکستان معرض وجود میں آیا اور علیحدہ مسلم ریاست قائم ہوئی۔ چیئرمین این پی سی میاں محمد جاوید نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ میں مہمانان گرامی اور اساتذہ کرام کا شکر گزار ہوں جو فکر اقبال کے حوالے سے اہم قومی مذاکرہ میں شامل ہوئے۔ میرے نزدیک اقبال کی فکر میں گہرائی اور دوراندیشی تھی جس نے مسلمانوں کی نیا کو پار لگایا۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے بندہء مومن کو متعارف کرایا، آج ہمیں سجدہء مومن کی ضرورت ہے۔ اقبال کی شاعری اور فکر دور جدید کی زندگی و مسائل کی مکمل تفسیر ہے۔ مہمان خصوصی فریدہ یاسمین کا کہنا تھا کہ اقبال
ایک مشکل شاعر ہیں اور میں نے ساری زندگی درس گاہوں میں طلبہ کو اقبال کی شاعری کی تفسیر پڑھائی۔ ہم پر اقبال کا بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ہمیں فلسفہ خودی سکھایا۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچوں میں خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کریں تاکہ وہ اقبال کے شاہین بن سکیں۔ این پی سی کے منصوبہ تعلیم نیٹ ورک پاکستان کی چیئرپرسن رزینہ عالم خان نے کہا کہ اقبال کے آفاقی کلام کو سمجھنے کیلئے بیک وقت عربی فارسی و دیگر زبانوں پر عبور حاصل ہونا چاہئیے۔ کلام اقبال آسان ترین لفظوں میں بچوں تک پہنچانا بہت ضروری ہے۔ این پی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سینئر رکن ڈاکٹر افضل بابر کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ تعلیمی منصوبہ جڑواں شہروں کے سکولوں سے باہر ہزاروں بچوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ ابتدائی طور پر بھارہ کہو میں ماڈل سکول قائم کیے جارہے ہیں۔ نسیم احمد عثمانی نے کہا یہ المیہ ہے کہ ہمارے سکولوں سے اقبال کی ” لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری” دعا غائب ہوچکی ہے۔ اسے واپس لانا ضروری ہے۔ آج دور جدید میں سو سے زائد ٹی وی چینل ہیں مگر ہمارے بچوں اور طلبہ کی تربیت و تفریح کیلئے ایک بھی چینل نہیں ہے۔ یہ دونوں کام بہت ضروری ہیں۔ روبینہ امتیاز قزلباش نے کہا کہ ایک عرصہ بعد میں ایک ایسی محفل میں شریک ہوں جہاں سبھی بولنے والے دل سے بول رہے ہیں۔ ہمارے ہاں درسگاہوں میں طلبہ کے دماغی صلاحیتوں کو ترقی دی جاتی ہے جبکہ بچوں کے دل کھولنے سے انکے دل و دماغ میں روز اول سے توازن لاکر بہترین شخصیات کی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر ساجد خاکوانی کا کہنا تھا کہ جس طرح علامہ کی فکر کی ہم رکابی میں یہ ملک آزاد ہوا اور بچھڑے ہوئے مسلمان یک جان قوم بنے۔ اسی طرح علامہ کی فکر میں ہی ہماری بقا ہے۔علامہ کے افکار کو پس پشت ڈال کر ہم ایک بار پھر غلامی کی اندھیر غار میں جا پڑیں گے۔ نعیم اکرم قریشی نے موضوع کی مناسبت سے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے فکر انگیز اشعار سنا کر حاضرین سے داد پائی۔ مجلس مذاکرہ کے میزبان حمید قیصر نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم فکر اقبال کی بات کریں تو انکے مقالات “دی ری کنسٹرکشن آف ریلجس تھاٹس” سے بہتر زندگی کی عملی تفسیر نہیں ہے۔ ہم سب کو پڑھ کر اس پر غور وفکر کرنا چاہئیے۔ تقریب کے پہلے مرحلے میں شعراء فرخندہ شمیم اور خرم خلیق نے حضرت علامہ محمد اقبال کو منظوم خراج پیش کیا۔ جبکہ نسیم احمد عثمانی نے علامہ کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کروائی۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں