پاکستان کی طاقت اسکی اجتماعی دینی پوٹینشل ہے: پروفیسر جلیل عالی

فاطمہ جناح براہ راست ووٹ کیلئے کھڑی ہونیوالی واحد راہنما تھیں: ادریس آزاد

ہمارے قائد کی گارڈین بہن کا تاریخی و سیاسی مقام بہت بلند ہے: میاں محمد جاوید

اسلام آباد : پاکستان کی طاقت اسکی اجتماعی دینی پوٹینشل ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی بے مثال کامیابی میرے اس دعوے کی زندہ دلیل ہے۔ان خیالات کا اظہار ممتاز شاعر و دانشور پروفیسر جلیل عالی نے نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے زیر اہتمام مادر ملت فاطمہ جناح کی برسی کے سلسلے میں منعقدہ مجلس مذاکرہ و محفل مشاعرہ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انکا کہنا تھا کہ مجھ سے پہلے چیئرمین این پی سی میاں محمد جاوید اور مہمان خصوصی ادریس آزاد نے مادر ملت کے حوالے سے بہت عمدہ گفتگو کی ہے۔ ایسی تقریبات کا یہی بنیادی مقصد ہوتا ہے کہ شرکائے محفل کو اس شخصیت اور انکے کارہائے نمایاں سے آگاہ کیا جاسکے۔ جس زمانے میں فاطمہ جناح انتخابات میں حصہ لے رہی تھیں میں بی اے میں پڑھتا تھا۔ میں نے لاہور میں انکا جلسہ دیکھا جس کے سٹیج پر مختلف سیاسی زعماء کی کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ فاطمہ جناح نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو انہیں بتایا گیا کہ یہ سیاسی پارٹیوں کی کرسیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کرسیاں ہٹا دیں۔ ایسا نہیں ہوتا سیاسی قیادت ایک ہوتی ہے۔ آپ اس سے اندازہ کرلیں کہ مادر ملت کتنا سیاسی تدبر رکھنے والی راہنما تھیں۔ تقریب کے مہمان خصوصی ممتاز ماہر اقبالیات ادریس آزاد نے کہا کہ فاطمہ جناح عورتوں اور مردوں میں واحد راہنما تھیں جنہوں نے تمام درپیش خطرات کو بالائے طاق رکھ کر جمہوریت اور براہ راست ووٹ کیلئے صدائے حق بلند کی تھی۔ وفاقی دارالحکومت میں نظریہ پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم پر مادر ملت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے آپ جیسے دانشوروں کا یکجا ہو جانا بھی بہت بڑی بات ہے جس کیلئے میں آپکو اور کونسل کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے چیئرمین میاں محمد جاوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے قائد کی گارڈین بہن کا تاریخی و سیاسی مقام بہت بلند ہے۔ فاطمہ جناح دلیر خاتون تھیں۔ وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر ایوب خان جیسے جابر حکمران کے سامنے حق سچ کے ساتھ کھڑی ہوگئیں۔ انہوں نے عوام کو بتایا کہ قائد کی سوچ کے مطابق پاکستان میں کس طرح کا نظام حکومت ہونا چاہئیے۔ این پی سی کے ایگزیکٹو بورڈ کے سینئر رکن اور سابق سفیر صلاح الدین چوہدری نے کہا کہ فاطمہ جناح چٹاگانگ کے دورے پر آئیں تو خطاب کے آغاز میں کہا کہ میں آپ سے بات کرنا چاہتی ہوں مگر مجھے افسوس ہے کہ میں بنگلہ زبان نہیں جانتی۔ اسکے باوجود انہیں جذبوں کی سچائی کی طاقت نے عوام کے دلوں کے قریب کردیا۔ جلسے کے شرکاء خواتین و حضرات نے انکے حق میں خوب نعرے لگائے۔ معروف ادیب و صحافی فریدہ حفیظ کا کہنا تھا کہ بحیثیت مجموعی ہماری ترجیحات بدل گئی ہیں۔ ہم اپنے قومی ہیروز کے ایام پر انہیں یاد تو کرتے ہیں مگر انکی تعلیمات پر کماحقہ عمل نہیں کرتے ورنہ پاکستان اقوام عالم میں اور سر بلند ہوتا۔ معروف لکھاری نعیم فاطمہ علوی نے کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم فاطمہ جناح جیسی عظیم ہستی کے حوالے سے ایسا کیا کریں کہ انکا حق ادا ہوسکے۔ آج کے دن تعلیمی اداروں میں مادر ملت کے حوالے سے مذاکرے و سیمنار کے انعقاد کے ذریعے نوجوانوں میں روشناس کرایا جانا چاہئیے۔ ایسے میں نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ نویدہ مقبول بھٹی نے فاطمہ جناح کے حوالے سے کہا کہ ہماری خوش نصیبی کہ ہمیں عالمی سطح کی مضبوط اور باوقار خاتون ملی ہیں۔ بلاشبہ انکی شخصیت نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ محمودہ غازیہ، ڈاکٹر مظہر اقبال، نعیم خالد، عالی شعار بنگش،افشاں عباسی اور حمید قیصر کا کہنا تھا کہ وہی قومیں دنیا میں سرفراز و کامران ہوتی ہیں جو اپنے قومی ہیروز کو ہمیشہ اچھے لفظوں میں نہ صرف یاد کرتی ہیں بلکہ انکے کہے پر عمل کرکے انہیں زندہ جاوید بنا دیتی ہیں۔ مجلس مذاکرہ کی میزبانی حمید قیصر نے کی جبکہ دوسری نشست میں مشاعرے کی میزبان معروف شاعرہ، افسانہ نگار و براڈ کاسٹر فرخندہ شمیم نے مشاعرے کا آغاز اپنی نظم “مادر ملت” سے کیا۔ جن دیگر شعراء نے مشاعرے میں کلام سنایا ان میں رضوانہ مسرت، سردار عابد علی، سہیل ملک، عالی شعار بنگش، محمد گل نازک، نصرت یاب نصرت، ڈاکٹر مظہر اقبال، محمودہ غازیہ، وفا چشتی، خرم خلیق اور قیوم طاہر شامل تھے۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں