گفت و( پریس ریلیز )
آج مجھے شرکائے تقریب کے گفتار سے دوستی اور محبت کی خوشبو آتی ہے: ڈاکٹر وحید احمد
ہم اقوام متحدہ کا یوم دوستی منا رہے ہیں وہ اسرائیل کے سامنے بے بس ہے: میاں محمد جاوید
میرے نزدیک دوستی کا ارفع و اعلیٰ معیار خالق کائنات اور ایک ماں کے درمیان ہے: سید ثمر رضا
اسلام آباد ( پ ر ) میں نے نظریہ پاکستان کونسل میں متعدد تقریبات میں شرکت کی ہے لیکن آج کی تقریب کا ذائقہ ہی مختلف ہے۔ آج مجھے تقریب کے شرکاء کے گفتار سے دوستی اور خلوص و محبت کی خوشبو آتی ہے۔ شاعر سے اداسی کا سبب پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ اداسی کی عمر طویل ہوتی ہے۔ زیادہ تر موسیقار بھی ماروا ٹھاٹھ میں اداس و غمگین دھنیں ترتیب دیتے ہیں۔ میں انہیں کہوں گا کہ وہ بھیرویں میں بھی دھنیں تخلیق کریں کہ عام زندگی میں خوشیاں کم اور دکھ زیادہ ہیں۔ اسی لیے کونسل کی دوستی کے نام یہ تقریب قابل ستائش ہے۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز شاعر و دانشور ڈاکٹر وحید احمد نے نظریہ پاکستان کونسل ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایوان قائد میں اقوام متحدہ کے “دوستی کے عالمی دن” کے تحت منعقدہ تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علم و دانش سے سرشار چیئرمین میاں محمد جاوید نے بہت پتے کی باتیں کی ہیں۔ بنگلہ دیش سے دوبارہ دوستی والی بات دل میں تیر کی طرح پیوست ہوگئی ہے۔ مہمان خصوصی سید ثمر رضا کا کہنا تھا کہ میرے ذاتی مطالعہ و مشاہدہ کے مطابق دوستی کا ارفع و اعلیٰ معیار خالق کائنات اور ماں کے درمیان ہے جس نے ایک ماں کے بطن سے نسل انسانی کو آگے بڑھا کر ماں کو بڑا رتبہ عطا کر دیا پھر ماں کے قدموں تلے انسانیت کیلئے سب سے بڑا انعام جنت رکھ دیا۔ این پی سی کے چیئرمین اور مہمان اعزاز میاں محمد جاوید نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کا یوم دوستی منا رہے ہیں مگر وہ اسرائیل کے سامنے بے بس ہے۔ اسرائیل لفظ انسان دوستی اور امن و محبت سے نابلد ہے۔ دوستی سماج میں گھٹن کو دور کرتی ہے۔ ابھی بنگلہ دیش میں عوامی انقلاب کے بعد ہم نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے دعا کریں ہماری بنگلہ دیش کیساتھ پھر سے دوستی ہو جائے۔ این پی سی کے سینئر وائس چیئرمین فیصل زاہد ملک نے خطبہء استقبالیہ میں کہا کہ انسان کو عزیز رشتے دار اسکی مرضی سے نہیں ملتے مگر وہ زندگی میں دوست اپنی مرضی سے بناتا ہے۔ کہتے ہیں جس کا کوئی دوست نہیں وہ سب سے غریب آدمی ہے۔ اس لیے ہمیں بہرحال میں اپنے دیرینہ دوستوں کی قدر کرنی چاہئیے۔ این پی سی کی ایگزیکٹو کونسل کے سینئر رکن، سابق سفیر صلاح الدین چوہدری نے ‘استقبال دوستی’ کے عنوان سے اپنی انگریزی نظم پیش کی۔ قبل ازیں تقریب کے میزبان و ڈائریکٹر پروگرام حمید قیصر نے کہا کہ دین اسلام عین فطرت ہے اور فطرت کی بنیاد انسان دوستی اور امن و محبت پر قائم ہے۔ اسلام بنیادی انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ انسان حیوان ناطق ہے اور دوستی زندگی کی خوبصورتی ہے۔ اسی لیے ہم نے اپنے دوستوں کو دوستی کے موضوع پر گفت و شنید کیلئے یکجا کیا ہے۔ آج ہمارے ہاں نگینے جیسے دوست موجود ہیں۔ تقریب کے شرکاء کا کہنا تھا کہ دوستی زبان اور رنگ و نسل کی محتاج نہیں بلکہ دوستی ایک پرخلوص رشتہ ہے۔ دوستی انسانوں کے اندر گرہوں کو کھولتی اور اسے سکون دیتی ہے۔ اس دور پر آشوب میں دوستی کرنا آسان مگر اسے پوری طرح نبھانا بہت مشکل کام ہے۔ اس لیے دوستوں کا انتخاب بہت احتیاط سے کرنا چاہئیے۔ اچھے دوست بنانا دراصل انسان دوست معاشرے کو تشکیل دینا ہے۔ اس تقریب میں جن اہل علم و دانش نے گفت و شنید میں حصہ لیا ان میں ڈاکٹر محمد افضل بابر، پروفیسر رفعت طور
نویدہ مقبول بھٹی، افشاں عباسی، طیب کامران،محمد ساجد قریشی، نعیم خالد، مسرت شیریں، مائرہ فریال ملک، مسعود ہاشمی، رابعہ خان اور رضوانہ مسرت شامل تھے۔
( حمید قیصر )

